Afghan Transit Trade

طورخم بارڈر پر 24 گھنٹے کام کو یقینی بنانے کیلئے اضافی نفری تعینات

0
219

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کسٹمز نے طورخم بارڈر پر تجارت کے فروغ کے لئے آپریشنز تیز کر دیئے، طورخم بارڈر پر کسٹمز کلیئرنس کے لئے عملہ تین شفٹوں میں کام کرے گا، وزیراعظم پاکستان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کسٹمز نے طورخم بارڈر پر اضافی اسٹاف تعینات کر دیا ہے تاکہ تجارت کو فروغ ملے اور کارگو اور سامان کی کلیئرنس میں کم سے کم وقت لگے۔ ایف بی آر کی جانب سے موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد کی سربراہی میں اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تعمیل میں ممبر کسٹمز آپریشنز ایف بی آر ڈاکٹر جواد اویس آغا نے فوری اقدامات کے لئے اضافی کسٹمز عملہ کی طورخم بارڈر پر تعیناتی کر دی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی نے اجلاس میں اس امر کا اظہار کیا کہ طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان کے ساتھ تجارتی حجم میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کسٹمز کے بروقت اقدامات سے افغانستان کے ساتھ تجارتی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کسٹمز اس سلسلے میں مثبت اقدامات اٹھا رہا ہے۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ 12 ہزار مسافر روزانہ کی بنیاد پر طورخم بارڈر سے گزرتے ہیں ان کے سامان کی کلیئرنس اور مسافروں کو سہولت کی دستیابی کے لئے کسٹمز ہر ممکن تعاون کر رہاہے، نہ صرف مسافر بلکہ تین سو کے قریب خالی کنٹینرز جو افغانستان سے آف لوڈ ہو کر واپس آتے ہیں اسی بارڈر اسٹیشن سے گزرتے ہیں۔ احکامات پر عملدرآمد کے لئے 54 کسٹمز کا عملہ جن میں سپرنٹنڈنٹ، اپریزرز، انسپکٹرز اور دیگر عملہ کو دوسری فارمیشنز سے ہٹا کر ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پشاور بلا لیا گیا ہے اور ان کی تعیناتی طورخم پر کی گئی ہے۔ سٹاف میں کمی کے باوجود عملہ کو تجارت میں اضافہ حاصل کرنے کی خاطر طورخم بارڈر پر تعینات کیا گیا ہے۔ طورخم بارڈر پر کسٹمز کلیئرنس کے لئے عملہ تین شفٹوں میں کام کرے گا جس کی بدولت درآمدات اور برآمدات میں کئی گنا اضافہ حاصل ہو گا۔ پاکستان کسٹمز آپریشنز نے پچھلے دو ماہ سے صبح سات بجے سے رات نو بجے تک عملہ کی ڈیوٹیز لگا دی ہیں۔ کسٹمز کے سینئر افسران نے بھی طورخم پر اقدامات کا جائزہ لیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت سے تکنیکی تعاون لیا جا رہا ہے۔ چوبیس گھنٹے آپریشنز کو جلد شروع کر دیا جائے گا جس کا با قاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔

 

 

 

 

 

Afghan Transit Trade

LEAVE A REPLY