Crack Down Operation against Hawala Hundi

منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی میں ملوث کرنسی ڈیلرز کیخلاف بڑے کریک ڈاﺅن کا فیصلہ

0
96

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی میں ملوث کرنسی ڈیلرز کے خلاف کریک ڈاﺅن کی تیاریاں شروع کر دی گئیں، لائسنس منسوخ کیے جائیں گے۔ ایف آئی اے نے ایسے 423 افراد کی نشاندہی بھی کرلی ہے جو کرنسی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں، جلد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے۔ حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ میں ملوث کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کی برانچوں اور فرنچائز کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک کے ایکسچینج پالیسی ڈپارٹمنٹ نے وفاقی وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو خط لکھ کر ایف آئی اے سے ملک بھر کی 28 کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کی 38 برانچوں اور فرنچائز کے خلاف درج ہونے والے مقدمات، عدالتوں میں پیش کردہ چالان، تحقیقات میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لی ہیں تاکہ ان ایکسچینج کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔ مکمل ڈیٹا صوبائی دفاتر سے 24 ستمبر تک طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے بقول یہ فیصلہ وفاقی وزارت داخلہ، وزارت خزانہ اور حساس اداروں کی ان رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا ہے جن کے مطابق ملک میں حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا ذریعہ کرنسی ڈیلرز اور کمپنیاں ہیں جن کے ذریعے سیاستدان، بیورو کریٹس اور تاجر اربوں روپے بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ کرنسی ڈیلرز کے خلاف موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ایف آی اے ہیڈ آفس اسلام آباد سے جاری ہونے والے لیٹر میں تمام زونل ڈائریکٹرز کو ایسی کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کی فہرست بھیجی ہے جن کے خلاف گزشتہ 3 برسوں میں ایف آئی اے کی جانب سے ملک بھر میں حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت کارروائیاں کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ایسی 28 کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کے ملک بھر میں قائم 38 برانچوں اور فرنچائز کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے جن کے خلاف ایف آئی اے نے گزشتہ تین برسوں میں مقدمات قائم کیے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹی کی حیثیت سے اسٹیٹ بینک کے حکام نے کرنسی کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث کمپنیوں اور ڈیلروں کے خلاف 2005ءسے لے کر اب تک کرنسی کے غیر قانونی لین دین کے حوالے سے 807 درخواستیں ایف آئی اے کو دی ہیں جبکہ ایف آئی اے کے ساتھ مل کر ایک سروے بھی کیا ہے جبکہ اسی دوران 423 ایسے افراد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو کہ کرنسی کے غیر قانونی کاروبار سے منسلک تھے۔ ذرائع کے بقول اسٹیٹ بینک حکام کی وفاقی وزارت داخلہ سے ہونے والی اسی خط و کتابت کے بعد ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ فوری طور پر مطلوبہ ریکارڈ اسٹیٹ بینک کے حوالے کریں۔ دستاویزات کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں اور ان کی فرنچائز اور برانچوں کے حوالے سے ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY