FBR Start investigation against Grade 18 Officers

ایف بی آر کا گریڈ 18 کے افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

0
84

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایف بی آر نے گریڈ 18 کے افسران کی جانب سے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر کارروائی شروع کرنے اور ان کو اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف بی آر نے گریڈ `18 کے ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کے افسران کو تنبیہ کی تھی کہ وہ 30 جون 2019ءکو ختم ہونے والے مالی سال کے لئے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروادیں لیکن افسران کی بڑی تعداد اس شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ترقی کے لئے افسران کو سالانہ کی بنیاد پر اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانا لازمی ہے۔ لیکن ایف بی آر کے مطابق کئی افسران نے گزشتہ پانچ سالوں سے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائی ہیں۔ گریڈ 18 کے ان لینڈ ریونیو کے افسران جنہوں نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائی ہیں ان میں محمد طاہر خان ایڈیشنل کمشنر آئی آر ، آر ٹی او سیالکوٹ (او پی ایس) محمد اسفندیار جنجوعہ ایڈیشنل کمشنر آئی آر، آر ٹی او ٹو کراچی، مس سعدیہ علی اکرام ایڈیشنل کمشنر آئی آر، سی آر ٹی او کراچی، محمد علی خان سیکریٹری ای فبی آر، مس عمارہ سرور ایڈیشنل کمشنر آئی آر ، سی آر ٹی او لاہور، مس نیلم افضل، آن ڈیپوٹیشن ٹو پی آر اے لاہور، ایل ٹی یو ٹو، عنایت ملک ایڈیشنل کمشنر آئی آر ایل ٹی یو اسلام آباد، لائیق زمان ایڈیشنل کمشنر آئی آر ایل ٹی یو ٹو کراچی، نصیب اﷲ آن ڈیپوٹیشن ٹو بی آر اے کوئٹہ، نصیر احمد ایڈیشنل کمشنر آئی آر سی آر ٹی او کراچی، محمد مسعود احمد گورسی، ایڈیشنل کمشنر آئی آر، سی آر ٹی او کراچی، مس سعدیہ افتخار سیکریٹری ایف بی آر اسلام آباد، طارق عزیز ڈپٹی کمشنر آئی آر، سی آر ٹی او کراچی، نصیر خان ڈپٹی کمشنر آئی آر، آر ٹی او ٹو کراچی شامل ہیں، اسی طرح گریڈ 18 کے کسٹمز افسران جنہوں نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائی ہیں ان میں جمشید علی تالپور سیکریٹری ایف بی آر ، ڈاکٹر عمران رسول خان ڈپٹی کلکٹر ایم سی سی حیدرآباد، رانا عرفان شوکت ڈپٹی ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن، ایف بی آر ملتان، سعد عطا ربانی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر کراچی، واجد زمان ڈپٹی ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر اسلام آباد، احسان اﷲ شاہ ڈپٹی کلکٹر ایم سی سی گوادر، مس عمارہ درانی ڈپٹی کلکٹر ایم سی سی (جے آئی اے پی) کراچی شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY