Uncategorized

اینٹی منی لانڈنگ ونگ نے 56کروڑسے زائد مالیت کا ڈومیسٹک منی لانڈرنگ کاپہلاکیس پکڑلیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن ان لینڈریونیوکے اینٹی منی لانڈنگ ونگ نے عبوری طورپر 56کروڑ60لاکھ روپے کے ڈومیسٹک منی لانڈرنگ کاپہلاکیس پکڑلیاہے،ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن ان لینڈریونیواینٹی منی لانڈنگ ونگ کی جانب سے ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی کے ایک سرمایہ کارعثمان شاہدپر حقیقی آمدنی چھپانے اوراپنی دولت سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے اورمنی لانڈرنگ کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ڈائریکٹوریٹ نے مذکورہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا دئرہ کاروسیع کردیاہے۔دستاویزات کے مطابق ایف آئی آرمیں نامزدمذکورہ شخص امریکامیں ”سدرن ڈسٹری پیوٹرز“اور”سدرن انویسمنٹ“ کے نام سے کاروبار کررہاہے جس کے خلاف جان بوجھ کر قابل ٹیکس آمدنی چھپانے ،ٹیکس چوری کی حامل آمدنی اثاثے خریدنے کے الزام میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ دستیاب ریکارڈکے ذریعے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیکس چوری رقم کی مالیت 57کروڑ60لاکھ روپے بنتی ہے، دستاویزات کے مطابق ؑعثمان شاہد نے گذشتہ پانچ سال کے دوران یعنی 2011-12تا2015-16کے مالی سال کے لئے داخل کرائے گئے سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں وفاقی حکومت کو جان بوجھ کرغلط معلومات فراہم کیں اورٹیکس چوری کی نیت سے اپنی اصل آمدنی اورٹرن اوورچھپایا، تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ مذکورہ شخص کے فراہم کردہ اعداوشمارحقیقی ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتے، مذکورہ شخص نے 2012-13کے مالی سال کی انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائیں جبکہ اس نے ڈی ایچ اے کراچی میں 6مہنگی ترین تجارتی جائیدادوں کی خریداری کی اوراس کے باوجودوفاقی حکومت کو ایک پائی کا ٹیکس نہیں دیا، مذکورہ شخص کے خریدے گئے اثاثوں پرعائد ٹیکس مجموعی اخراجات کے تعین سے معلوم ہوگا، اسی طرح مالی سال 2013-14میں عثمان شاہد نے اپنے جمع شدہ گوشوارے میں غلط معلومات فراہم کیں حالانکہ مذکورہ مالی سال میں صرف15لاکھ 16 ہزار 240 روپے کی آمدنی ظاہر کی جبکہ اس کے بینک اکاﺅنٹ میں 5کروڑ6لاکھ 39ہزار736روپے منتقل کئے گئے، جس پر قابل اداٹیکس کی مالیت 1کروڑ72لاکھ 19 ہزار 134 روپے سے زائد بنتی ہے جبکہ مذکورہ شخص نے صرف 25ہزارروپے کا ٹیکس اداکیا۔اسی طرح مالی سال 2014-15میں 24لاکھ 5ہزارکی آمدنی ظاہر کی گئی جبکہ اس کے مختلف بینک کھاتوں میں 23 کروڑ 24 لاکھ 80ہزار452روپے کی آمدنی ہوئی،مزیدبراں مذکورہ شخص نے ڈی ایچ اے کراچی میں 3کمرشل ورہائشی جائیدادیں خریدیں اورگذشتہ سال خالص اثاثوں میں 40لاکھ روپے کا اضافہ ہوا جبکہ 25لاکھ روپے کی آمدنی ظاہر کی گئی جو ناممکنات میں سے ہے، اس سال واجب اداٹیکس 8کروڑ8لاکھ 23ہزار692روپے سے زائد بنتاہے جبکہ ادائیگی صرف 45ہزارروپے کی گئی، دستاویزات کے مطابق مالی سال 2015-16میں عثمان شاہدنے 25لاکھ 60ہزار856روپے کی آمدنی ظاہر کی جبکہ ان کے بینک کھاتوں میں ایک ارب 36کروڑ83لاکھ 25 ہزار 141 روپے کی آمدن ہوئی، اس دوران انہوں نے ڈی ایچ اے میں 9مہنگی ترین جائیدادوں کی خریداری کی، گذشتہ سال سے خالص اثاثوں میں ایک کروڑ40لاکھ روپے کا اضافہ ہواجبکہ آمدنی 25لاکھ ظاہرکی گئی جو ناممکن ہے ،اس سال 2لاکھ 83ہزار137روپے کا ٹیکس اداکیاگیاجبکہ مذکورہ ایڈجسمنٹ کے بعد 47کروڑ85لاکھ 21ہزار579سے زائد بنتاہے ،مذکورہ معلومات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عثمان شاہد نے حقیقی آمدنی چھپانے ،ٹیکس چوری کے حامل آمدنی سے اثاثوں کی خریداری کے ذریعے قومی خزانے کو مجموعی طورپر 57کروڑ65لاکھ 64 ہزار 405روپے کا نقصان پہنچایا،مذکورہ واجبات میں ڈیفالٹ سرچارج اورجرمانہ شامل نہیں جس کاتعین حتمی ادائیگی پر عائد کیاجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button