Moody’s Investors Service affirmed Pakistan’s outlook rating to stable from negative

عالمی معاشی درجہ بندی میں پاکستا ن کی پوزیشن مستحکم

0
145

کراچی(اسٹاف رپورٹر)عالمی معاشی درجہ بندی کے ادارے موڈیزانویسٹرسروس نے پاکستان کی معیشت پر اپنی تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کی پوزیشن منفی سے مستحکم کردی ہے۔،آﺅٹ لک میں تبدیلی ،ادائیگیوں توازن ،پالیسی میں ایڈجسمنٹ کی حمایت اورکرنسی میں لچک کے باعث سامنے آئی ہے۔گذشتہ روزعالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیزکی طرف سے جای ہونے والی رپورٹ میںکہاگیاہے کہ سرمایہ کاری کے لئے پاکستان،بھارت سے بہترملک ہے،حکومت پاکستان نے بین الاقوامی ادائیگیوں کی بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتحال بہتر کی ہے‘ مثبت اقدامات کی بدولت معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔موڈیز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ بی تھری پر برقرار رکھی ہے تاہم پہلے آﺅٹ ل±ک منفی تھا جسے اب موڈیز نے مستحکم کردیا ہے۔ موڈیز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے بیرونی اقتصادی خطرات میں کمی آئے گی۔ رپورٹ کے مطابق کہ پالیسی اقدامات اور دیگر وجوہات کی بناءپر ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کی بی اے تھری لوکل کرنسی بانڈ اور ڈیپازٹ سیلنگ میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ بی ٹو فارن کرنسی بانڈ سیلنگ اور سی اے اے ون فارن کرنسی ڈیپازٹ سیلنگ بھی وہی رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق کہ درآمدات میں کمی کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے بھی درآمدات میں کمی آئے گی اور بجلی کی پیداوار میں ڈیزل کی بجائے کوئلہ، قدرتی گیس کے استعمال اور پن بجلی کی پیداوار کی وجہ سے بتدریج تیل کی درآمدات بھی کم ہوں گی۔رپورٹ کے مطابق کہ اسٹیٹ بینک کو مضبوط بنانے اور کرنسی میں لچک پیدا کرنے سمیت پالیسی اقدامات سے بیرونی معاشی خطرات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پچھلے کچھ ماہ کے دوران سات سے آٹھ ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے ہیں جو کہ دو سے اڑھائی ماہ تک اشیاءکی درآمد کے لئے کافی ہیں۔

 

 

 

 

 

Moody’s said that the change in outlook to stable is driven by Moody’s expectations that the balance of payments dynamics will continue to improve, supported by policy adjustments and currency flexibility. Such developments reduce external vulnerability risks, although foreign exchange reserve buffers remain low and will take time to rebuild.

LEAVE A REPLY