Oil & Gas Company Tax Evasion on import of Vehicles

آئل اینڈ گیس کمپنی ،نئی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس چوری

0
21

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈائریکٹریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی نے آئل اینڈ گیس تلاش کرنے والی کمپنی کی جانب سے گاڑیوں کی درآمد پر ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چوری کا انکشاف کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹریٹ نے میسرز شہزاد آئل اینڈ گیس تلاش کرنے والی کمپنی اور اس کے کلیئرنگ ایجنٹ میسرز یور چوائس سروس کے خلاف کنٹراونشن رپورٹ تیار کرکے مزید قانونی کارروائی کے لئے متعلقہ کلکٹریٹ کو بھیج دی ہے۔ کنٹراونشن رپورٹ کے مطابق امپورٹر نے نئی گاڑیاں جس میں ٹویوٹا لیکس اور بنٹلے بنٹائیگا امپورٹ کی اور اس پر غیر قانونی طریقہ سے ڈیوٹی اور ٹیکس استثنیٰ حاصل کیا۔ اس کیس میں ڈائریکٹر آئی اینڈ آئی کراچی خلیل یوسفزئی کمبوہ کی اطلاع پر ڈائریکٹریٹ کی ایک ٹیم نے کارروائی کی۔ اس ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹر گل نبی حسن ، اپریزنگ آفیسر الیاس گچکی اور اپریزنگ آفیسر عمیر مصطفی شامل ہیں۔ ڈائریکٹریٹ کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ امپورٹر برانڈ نیو گاڑیاں امپورٹ کررہے ہیں اور سیلز ٹیکس اور ایڈیشنل سیلز ٹیکس کی SRO 678/2004 کے تحت استثنیٰ لے رہے ہیں جوکہ ان گاڑیوں کے لئے نہیں ہے۔ اطلاع ملنے پر اسی امپورٹر پر ڈائریکٹریٹ کے افسران نے کلیئرنس کی نگرانی شروع کردی۔ اس امپورٹر نے 2 اگست 2021 کو ایک نئی رولز رائس گاڑی منگوائی اور ایم سی سی پورٹ قاسم پر ڈیکلریشن کے وقت سیلز ٹیکس، ایڈیشنل سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی استثنیٰ کی درخواست کی۔ اس امپورٹر کی جی ڈی کی خاص طور پر نگرانی کی گئی اور جب یہ گیٹ آﺅٹ پر آئی تو یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ اسسمنٹ آفیسر نے اس کی استثنیٰ کو مسترد کرکے نارمل سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریٹ عائد کئے ہیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹریٹ نے امپورٹرکے ماضی میں کی گئی کلیئرنس کی چھان بین شروع کی تو معلوم ہوا کہ 5 جولائی 2021 کو اس نے 2 نئی گاڑیوں کی امپورٹ پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی رعایت حاصل کی۔ یہ دونوں گاڑیاں ایم سی سی پورٹ قاسم سے ہی کلیئر ہوئی تھیں۔ ریکارڈ کی چھان بین سے یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی کہ اس امپورٹر نے صرف یہی دو گاڑیوں کی امپورٹ کی تھی۔ ڈائریکٹریٹ نے ان دو گاڑیوں کی کنٹراونشن بناکر ایم سی سی پورٹ قاسم کے حوالے کردی ہے تاکہ ٹیکس چوری کی رقم واپس لی جاسکے اور مزید قانونی کارروائی کی جاسکے۔

LEAVE A REPLY