Pakistan Airline Pilots Association (PALPA) Involve in Tax Evasion worth Rupees 340 millions

پالپا ہاوس نے 34کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کئے

0
126

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر نے پاکستان ایئرلائن پائلیٹ ایسوسی ایشن (پالپا ہاوس) کی جانب سے گزشتہ 6سال کے دوران کی جانے والی 34کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف کیاہے جن میں انکم ٹیکس کی مد میں 14کروڑ روپے جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 20کروڑ روپے کی چوری شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق پالپا ہاوس سندھ ریونیو بورڈ کے سندھ سیلز ٹیکس کی بھی ادائیگیاں نہیں کررہاہے حالانکہ ایس آر بی کے پالپاہاوس پر صرف سیلز ٹیکس کی مد میں تقریبا 12 سے 13کروڑ روپے کے واجبات بنتے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ قومی ائیرلائن کے پائیلٹوں کی تنظیم پالپا نے 8750 اسکوائریارڈ کے رفاعی پلاٹ نمبر ایس ٹی 31، بلاک 5، کلفٹن میں اپنے ممبران کے لیے تین منزلہ پالپا ہاوس قائم کیا ہوا جس میں 30 سے زائداعلی ترین رہائشی کمرے، سوئیٹس، بینکوئیٹ ہال، سوئمنگ پول، ٹینس کورٹ، لان کی سہولتیں موجود ہیں، ذرائع نے بتایاکہ پالپا نے پالپا ہاوس میں اسکول اور لائبریری کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ سے اضافی اراضی حاصل کی تھی مگر تاحال پالپا ہاوس میں نہ تو اسکول قائم کیاگیاہے اور نہ ہی لائبریری بلکہ پالپا ہاوس کومکمل طور پر تجارتی بنیادوں پر آپریٹ کیاجارہاہے۔ آئی اینڈآئی کے ذرائع نے بتایاکہ پالپا ہاوس کی انتظامیہ ایک کمرے کافی یوم 10سے 20ہزار روپے چارج کرتی ہے جبکہ پالپا ہاوس کا لان اور پرتعیش بینکوئیٹ ہال مختلف تقریبات کے لیے انتہائی مہنگے ریٹس 5 سے 6لاکھ روپے کے عوض نان ممبر کلائنٹس کو فراہم کیاجاتاہے لیکن ان تجارتی سرگرمیوں سے ہونے والی خطیر آمدن کے باوجود محکمہ انکم ٹیکس میں پالپا ہاوس کی جانب سے داخل کرائے جانے والے ٹیکس گوشواروں میں آمدنی ظاہر نہیں کی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پالپا ہاوس کی تجارتی سرگرمیوں سے متعلق خفیہ تحقیقات کے بعد پالپا ہاوس کی انتظامیہ مطلوبہ ٹیکس ریکارڈ کے لیے گزشتہ چند ماہ میں دو نوٹسز جارکیے گئے جس پر پالپا ہاوس کی انتظامیہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی جس پر ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گذشتہ دنوں تیسرا نوٹس بھی جاری کردیاگیاہے جس میں پالپاہاوس کی انتظامیہ سے مذکورہ مدت کے دوران انکے بینکوئیٹ ہال اور لان میں تقریبات کی تفصیلات وآمدنی، رہائشی کمروں کی بکنگ کی تفصیلات وآمدنی کا ریکارڈ طلب کیاگیاہے اورانتظامیہ سے اپنے داخل کردہ ٹیکس گوشواروں میں قابل ٹیکس آمدنی کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کے بارے میں استفسار کیاگیاہے۔

LEAVE A REPLY