Hundreds of containers stranded at port due to ban on import of luxury items: Qamarul Islam

لگژری اشیاءکی درآمد پر پابندی سے پورٹ پر سینکڑوں کنٹینرز پھنس گئے، قمرالاسلام

0
31

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشنز نے وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کی ہے کہ پرتعیش اشیاءکی درآمد پر پابندی کا اطلاق ٹرانزٹ کارگو کے لئے موخر کیا جائے۔ اس سلسلے میں آل پاکستان کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین قمرالاسلام نے ایک خط میں وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ایس آر او 598(I)2022 کا اطلاق ٹرانزٹ گڈز کے لئے موخر کیا جائے۔ ایپکا کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ کسٹمز حکام اس نوٹیفکیشن میں دی گئی ہدایات کے برخلاف کنسائمنٹس کو ضبط کررہے ہیں۔ کسٹمز حکام اس حقیقت کو بھی نظرانداز کررہے ہیں کہ متعدد ٹریڈرز نے ان اشیاءکا تعلق جوکہ ایس آر او 598 کے تحت آتے ہیں، ان کا لیٹر آف کریڈٹ پہلے ہی بنوا لئے ہیں، جکہ کئی ایسی کنسائمنٹس جن کی شپمنٹ ابھی آنا ہے۔ قمرالاسلام نے نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ بلاشبہ یہ اقدام زرمبادلہ کو بچانے کے لئے کیا گیا ہے لیکن کسٹمز حکام کے غیر مناسب رویئے کی وجہ سے بزنس کمیونٹی پریشانی کا شکار ہے۔ ایپکا کے چیئرمین نے مزید آگاہ کیا کہ تقریبا 700سے زائد کنٹینرز اس کی وجہ سے پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ قمرالاسلام نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ کسٹمز حکام کو اس حوالے سے ہدایت جاری کی جائیں اور اس ایس آر او کے حوالے سے بھی وضاحت جاری کی جائے تاکہ بزنس کمیونٹی کو نقصان سے بچایا جاسکے۔ ایپکا کے چیئرمین کے مطابق ایس آر او 598 پر عملدرآمد کی وجہ سے پورٹ ایریا میں رش بڑھ گیا ہے جبکہ اس وجہ سے حکومت کو اربوں روپے کا ریونیو بھیپھنس گیا ہے۔ قمرالاسلام کا کہنا ہے کہ پورٹ ڈیمرج اور ڈیٹیشن چارجز کی وجہ سے جہاں بزنس کمیونٹی کا نقصان ہورہا ہے، وہیں شپنگ کمپنیوں اور ٹرمینل آپریٹرزان چارجز کی مد میں زرمبادلہ کی کثیر رقم بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔ ایپکا نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ایس آر او 598 پر عملدرآمد 30 جون تک موخر کردیا جائے۔ کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس مسئلہ پر وزیراعظم کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے۔ KCAA کے جنرل سیکریٹری ارشد خورشید کا کہنا ہے کہ تقریبا 700سے زائد کنٹینرز اس ایس آر او کی وجہ سے پورٹ پر پھنسے ہوئے ہین جس کی بڑی وجہ بل آف لینڈنگ 19 مئی 2022 کے بعد جاری گیا ہے۔ ارشد خورشید کا مزید کہنا ہے کہ اس میں بڑی تعداد ایسی کنسائمنٹس کی ہے جن کی شپمنٹ ہوچکی تھی۔ لیکن وہ پورٹ پر 19 مئی کے بعد پہنچے۔ موجودہ قانون کے مطابق صرف ان کنسائمنٹس کو کلیئرنس کی اجازت دی جارہی ہے جن کی بل آف لینڈنگ 19 مئی 2022 سے پہلے کی ہو۔ ارشد خورشید نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ایس آر او 598 پر عملدرآمد 30 جون تک موخر کیا جائے۔

LEAVE A REPLY