Lahore Customs Tribunal orders release of fabric consignment Advocate Obaidullah Mirza

ایڈووکیٹ عبیداﷲ مرزا کے ٹھوس دلائل لاہور کسٹمزٹربیونل نے فیبرک کے کنسائمنٹ کو ریلیز کرنے کے احکامات دیدیئے

0
12

کراچی (اسٹاف رپورٹر) اپیلیٹ ٹربیونل کسٹمز، اسپیشل بنچ لاہور نے کسٹمز حکام کی جانب سے اسمگلنگ کے الزام میں قبضے میں لئے گئے کپڑے کے کنسائمنٹ کو فوری طور پر امپورٹر کے حوالے کرتے ہوئے ایڈجیوڈیکشن کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ درآمد کنندہ کی پیروی ندیم اینڈ کمپنی کے قانون دان ایڈووکیٹ عبیداﷲ مرزا نے کی۔ ایڈووکیٹ عبیداﷲ مرزا کی جانب سے لاہور اپیلیٹ ٹربیونل میں ٹھوس دلائل پیش کئے گئے جس پر اپیلیٹ ٹربیونل کے ٹیکنیکل ممبر محمد اقبال بھوانہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کسٹمز حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایڈجیوڈیکشن کی جانب سے آرڈر ان اوریجنل جاری کرتے ہوئے حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نوشہرہ کے امپورٹر محمد ارشد نے ایڈجیوڈیکشن کے فیصلے کے خلاف ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔ کیس کے مطابق امپورٹر نے درآمدی کپڑے کی ٹرانسپورٹ کنٹریکٹ کے لئے میسرز اے اے انٹرنیشنل سے رابطہ کیا۔ اس کنسائمنٹ میں 107 رولز جس کا وزن 1700 کلو تھا۔ اس کنٹریکٹ کے بعد میسرز اے اے نے میسرز نیو پنڈی کراچی کو اس کنسائمنٹس کی ٹرانسپورٹیشن کے لئے کنٹریکٹ مزید آگے دے دیا۔ اس سامان کی ترسیل کے وقت کسٹمز اینٹی اسمگلنگ نے 12 فروری 2022ءکے دن اس کنسائمنٹ کو روکا،اس کنسائمنٹ کی تلاشی کے بعد اس کو اسمگلنگ کا سامان قرار دے دیا۔ کسٹمز حکام نے ٹرک سمیت اس کنسائمنٹ کو ٹھوکر نیاز بیگ کے کسٹمز ویئرہاﺅس پہنچایا اور اس کی مزید ایگزامنیشن کی۔ مزید ایگزامنیشن پر اس ٹرک سے کپڑے کے 107 رولز جس کا وزن 170 کلو تھا، برآمد ہوا۔ قبضے میں لے گئے سامان کے کیس کو ایڈجیوڈیکشن میں لایا گیا۔ اس میں کسٹمز اینٹی اسمگلنگ نے اعتراف کیا کہ ضبط کیا گیا سامان اسمگلنگ کا نہیں ہے اور اس پر ڈیوٹی ادا کی گئی ہے۔ البتہ کسٹمز ایڈجیوڈیکشن نے اس کنسائمنٹس کو سیلز ٹیکس انوائس میں تاریخ میں ردوبدل کی بنیاد پر اس کنسائمنٹ کو اسمگلنگ کا تصور کرکے قبضے میں لینے کا حکم دیا۔ اپلیٹ ٹربی ونل نے کیس کے تمام پہلوﺅں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کسٹمز حکام کو کنسائمنٹ ریلیز کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ٹربیونل نے ONO کو بھی خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایڈجیوڈیکشن کو کنسائمنٹ ریکنسی لیشن کو فیصلہ سناتے وقت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے تھا۔

LEAVE A REPLY