FTO order in favour of Importer after 19 years

ایڈووکیٹ عبیداﷲ مرزا نے 19 سال بعددرآمدکنندہ کو انصاف دیلادیا

0
57

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی ٹیکس محتسب محمد آصف جاہ نے 19 سال پرانے سیلز ٹیکس ریفنڈز کے کیس میں ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ 21 دنوں میں قانون کے مطابق کیا جائے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے 31 مئی 2022ءکو سنائے جانے والے فیلے میں کارپوریٹ ٹیکس آفس کراچی کے کمشنر ان لینڈ ریونیو کو حکم دیا ہے کہ اس کیس کو 21 دنوں میں مکمل کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق کیس کی پیروی میسرز ندیم اینڈ کمپنی کے ایڈووکیٹ عبیداﷲ مرزا نے میسرز JFK انٹرنیشنل کو19 سال کے بعد انصاف دلا دیا۔ کیس کی تفصیلات کے مطابق میسرز JFK انٹرنیشنل کراچی کا مالک ملک محمد خالد جوکہ ایک ٹیکسٹائل کا کمرشل امپورٹر ہے اور سیلز ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے ستمبر 2022ءسے رجسٹرڈ ہے۔ محمد خالد کو 599705 ڈالر کا غیر ملکی آرڈر ملا جس کے تحت پولیسٹر گارمنٹس ایکسپورٹ کرنا تھا۔ اس کے لئے محمد خالد نے گارمنٹ بنانے والی کمپنیوں میسرز وون وپائنٹ کراچی، میسرز پرل ٹیکس انٹرنیشنل کراچی اور ویونگ ناٹ کراچی کو ان گارمنٹس کی تیاری کے لئے مزید آگے آرڈر دے دیا۔ گارمنٹس کی تیاری کے بعد محمد خالد نے یہ کنسائمنٹ غیر ملکی خریدار کو بھیج دیا جس کی ادائیگی بینکنگ چینل کے ذریعہ کی گئی۔ جولائی 2003 کے ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں خالد نے زیرو ریٹڈ ایکسپورٹس سیلز تقریبا 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد دکھائی۔ جبکہ اس کے لئے اس نے خریداری 3 کروڑ 76 لاکھ ظاہر کی ،جس کی وجہ سے اس کا ان پٹ ٹیکس 49 لاکھ بنتا تھا۔ قانون کے مطابق خالد کو اس کا ریفنڈ ایک ماہ میں کلیم کرنا تھا اور ڈپارٹمنٹ کو اس کلیم کے بدلے ادائیگی ایک ماہ میں کرنا تھی۔ ریفنڈ کلیم کے مطابق دستاویز جمع کروانے کے ایک سال بعد یعنی 12 اگست 2004 میں ایکسپورٹر کو ایک لیٹر موصول ہوتا ہے کہ ٹیکس حکام نے کچھ ایکسپورٹر کے جعلی ریفنڈز کلیم کو فیک انوائسز پر کیا گیا تھا اس پر انکوائری شروع کی تھی۔ ٹیکس حکام نے خالد کو آگاہ کیا کہ اس نے ریفنڈز کلیم ان انوائسز پر جوکہ ابوبکر نامی شخص نے جاری کیا ،جوکہ جعلی تھا۔ ایکسپورٹر نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کیا کہ وہ کسی ابوبکر کو نہیں جانتا اور اس کی تمام انوائسز رجسٹرڈ افراد سے لی گئی ہیں۔ اس کے بعد 16 جون 2005ءمیں ایکسپورٹر کا آڈٹ کیا اور آڈیٹر نے تمام ٹرانزیکشن کو تسلی بخش قرار دے دیا ۔ اس کے باوجود ٹیکس حکام نے اس ایکسپورٹر کا ریفنڈز جاری نہیں کیا جس پر جولائی 2010 میں وفاقی ٹیکس محتسب نے اس پر حکم نامہ جاری کیا۔ وفاقی ٹیکس محتسب کے حکم نامے کے باوجود ایف بی آر کے آفس نے اس کی تعمیل نہیں کی اور مختلف حیلے بہانے کرتے رہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب کے حکم نامے کے خلاف چیئرمین ایف بی آر کے پاس گئی جس پر چیئرمین نے 23 اگست 2013 کو ادارے کی اپیل کو مسترد کردیا۔ مزید کئی سال گزرنے کے بعد ایکسپورٹر نے پھر وفاقی ٹیکس محتسب آفس میں اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے اپیل دائر کی جس کی سماعت 9 مئی 2022 کو ہوئی۔ اس کے بعد 14 مئی کی سماعت میں ٹیکس حکام نے تسلیم کیا کہ ایکسپورٹر نے تمام مطلوبہ دستاویز جمع کروا دیئے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں اس کیس کو ڈائریکٹریٹ آف ٹریننگ کے پاس کیس اسٹیڈی کے طور پر بھیجنے کے احکامات جاری کئے۔

LEAVE A REPLY