Exclusive Reports

کسٹمزانٹیلی جنس کی کارروائی،اسٹیل کے کنسائمنٹس پر70کروڑسے زائد مالیت کے ڈیوٹی وٹیکسزکی چوری کی نشاندہی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمزانٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن کے شعبہ آراینڈڈی کراچی نے اسٹیل شیٹ کی غیرقانونی کلیئرنس پر 70کروڑسے زائد مالیت کے ڈیوٹی وٹیکسزکی چوری بے نقاب کرتے ہوئے ملزمان میں شامل درآمدکنندگان میسرزاعجازانجینئرنگ ،میسرزاے ون اسٹیل کے خلاف 26مقدمات درج کرلئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹرکسٹمزانٹیلی جنس عرفان جاوید کو اطلاع ملی کہ اسٹیل کے کنسائمنٹس کی غیرقانونی کلیئرنس کرکے صنعتی یونٹ میں استعمال کرنے کے بجائے مقامی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کیاگیاہے جس پر ڈائریکٹرعرفان جاوید نے ایڈیشنل ڈائریکٹرشیرازاحمدکو پورٹ قاسم کلکٹریٹ،اپریزمنٹ ایسٹ اور اپریزمنٹ ویسٹ سے کلیئرکئے جانے والے اسٹیل کے کنسائمنٹس کے ڈیٹاکی جانچ پڑتال کے احکامات جاری کئے ۔ذرائع نے بتایاکہ ایڈیشنل ڈائریکٹرشیرازاحمدنے ڈپٹی کلکٹرعدنان رفیق کی سربراہی میں سپرنٹنڈنٹ فخرشاہ،اپریزنگ آفیسرصنم عزیز،آئی پی ایس امجدرفیق بھٹی،انٹیلی جنس آفیسرزاسدمرزا،خیام حسین، ہمایوں پر مشتمل آراینڈڈی کی ٹیم نے مذکورہ تینوں کلکٹریٹس سے کلیئرکئے جانے والے اسٹیل کے کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کی توانکشاف ہواکہ درآمدکنندگان کی جانب سے ایس آراو655کا ناجائزفائدہ اٹھاکر ایک ارب 84کروڑ47لاکھ روپے مالیت کے اسٹیل کے 100سے زائد کنسائمنٹس کی غیرقانونی کلیئرنس پر مجموعی طورپر 70 کروڑ 52 لاکھ 91 ہزازروپے مالیت کے ڈیوٹی وٹیکسزکی چوری کی گئی۔ذرائع نے بتایاکہ کسٹمزانٹیلی جنس کی آراینڈڈی کی ٹیم نے صنعتی یونٹ کا دورہ کرکے اس امرکی تصدیق کی کہ درآمدکئے جانے والے اسٹیل کے کنسائمنٹس فیکٹری میں سامان کی تیاری میں استعمال کیاگیاہے یا نہیں ،توتفتیش کے دوران اس امرکا انکشاف ہواکہ مذکورہ درآمدکنندگان کی جانب سے درآمدہونے والے اسٹیل کے کنسائمنٹس کو فیکٹری میں خام مال کے طورپر استعمال نہیں کیاگیابلکہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کردیاگیاتھا،ذرائع نے مزیدبتایاکہ آراینڈڈی کی ٹیم میں شامل سپرنٹنڈنٹ فخرشاہ اوران کی ٹیم نے گذشتہ تین ماہ سے تینوں کلکٹریٹس سے کلیئرکئے جانے والے اسٹیل کے کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کی جارہی تھی تاہم فخرشاہ اوران کی ٹیم نے سخت محنت کے بعد اسٹیل کے ایک بڑے کیس کی نشاندہی کی جس اس سال کا سب سے بڑاکیس ہے۔ذرائع نے بتایاکہ انجینئرڈویلپمنٹ بورڈکی جانب سے اسٹیل کے درآمدکنندگان کو اسٹیل کے کنسائمنٹس کی درآمدکے لئے ایک مخصوص کوٹہ دیاجاتا ہے جس میں اسٹیل کی کوالٹی اورسٹیل کے سائزکی وضاحت کی جاتی ہے لیکن آراینڈڈی کی ٹیم نے اس امرکی نشاندہی کی کہ درآمدکنندگان کی جانب سے درآمدکئے گئے اسٹیل کے کنسائمنٹس کی کوالیٹی سائز تومعیارکے مطابق نہیں تھی ۔زرائع کے مطابق درآمدکنندگان نے قانون کی خلاف ورزری کرتے ہوئے بلیجیئم،کینیڈا،جاپان،سوئزلینڈ،جرمنی اوریورپ اسٹیل کے 100سے زائد کنسائمنٹس کی درآمدکی گئی جس کی کلیئرنس کے لئے ایس آراو655کے غلط استعمال اورمس ڈیکلریشن کی گئی اورکنسائمنٹس کی کلیئرنس 20فیصدکسٹمزڈیوٹی کے بجائے ایک فیصدکسٹمزڈیوٹی پرکرکے قومی خزانے کو 70کروڑ52لاکھ91ہزارروپے کا نقصان پہنچایاگیا۔

 

 

 

 

 

Directorate of Customs Intelligence & Investigation Karachi has lodged 26 FIRs against certain importers for evading legitimate government revenue Rs705.29 million by misusing and illegally claiming benefit of SRO 655(I)/2006.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button